Sunday, April 16, 2017

Islami kahania

ھم چاروں بڑی مدت بعد اکٹھے ھوۓ تو سوچا آج ڈنر کہیں باھر جا کے کیا جاۓ .
پھرتے پھراتے ایک ھوٹل پہ پہنچے، آرڈر دیا اور لگے ماضی دہرانے،
یار اس جاب نے ذلیل کر کے رکھ دیا ھے، کبھی یہاں تو کبھی وھاں ، ابھی آپ خود دیکھو کتنی مدت بعد ملنا نصیب ھوا ھے،اس سے تو اچھا تھا بندہ گھر میں ریڑھی لگا لیتا، ابھی تو جیسے وہ حالت آپہنچی ھے دھوبی کا--- گھر کا نہ گھاٹ کا
میں نے عادل کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا ،
کہتے تو آپ ٹھیک ھو مگر آج کے دور میں جاب کا مل جانا اف کسی مال_غنیمت سے کم نہیں ھے . میں نے عمر کی بات سے اتفاق کیا، واقعی بات میں دم تو ھے، شکوے چلتے رھے، چلتے رھے کہ پتا ھی نہ چلا کہ کب ویٹر کھانا ٹیبل پہ سجا کے چلا گیا،
ابھی کھانا شروع ھی کیا تھا تو دیکھا کہ ایک آٹھ،نو سالہ بچہ حسرت بھری نگاھوں سے ھمیں کھانا کھاتے دیکھ رھا ھے، مجھے اس کی حسرت اور معصومیت پہ وہ ترس آیا کہ میں نے اسے پاس بلا لیا،
کھانا کھاؤ گے ؟
جی تھوڑا سا کھا لوں گا،
آؤ بیٹھو ادھر، میں نے اسے پاس بیٹھا لیا اور ایک پلیٹ میں کھانا ڈال کے اسکے سامنے رکھ دیا،
اسکا کھانے کا انداز بتا رھا تھا کہ شاید کافی دیر کا بھوکا ھے،پیاسا ھے،
پڑھتے ھو چھوٹے ؟ علی نے پوچھا
نہیں بھائ مزدوری کرتا ھوں،
مزدوری ! ھم سب چونکے، کیوں؟
ابو فالج کے مریض ھیں ان کی دوائیں میں لاتا ھوں، اور امی کچھ گھروں میں کام کرتی ھیں جس سے گھر کا گزارہ چلتا ھے آج جو پیسے ملے ان کی یہ دوائیں لے لی ھیں. اس نے دواؤں سے بھرا شاپر ھمارے سامنے کیا. صبح کا کچھ نہیں کھایا اور ابھی پاس پیسے بھی نہیں تھے کہ کھانا کھا لیتا. ادھر سے گزرا تو آپکو کھانا کھاتے دیکھ کر بھوک نے آگے نہ جانےدیا،
آپ نے احسان کیا کہ پاس بلا لیا،‏
بڑا بھائ نہیں ھے ؟
میں نے پوچھا ،‏
نہیں دو چھوٹی بہنیں ھے، اس نے حسب_توفیق کھانا کھایا اور اٹھ کھڑا ھوا،
بہت شکریہ بھائ آپ نے مجھے کھانا کھلایا میں اب چلتا ھوں، ماں بیٹھی انتظار کر رھی ھوگی ، مجھے لگا جیسے اسکی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اس خوشی کے جس نے اسکے ننھے سے پیٹ کی آگ بجھا دی تھی،‏
وہ چلا گیا تو ھمیں لگا جیسے ھم دنیا کے سب سے بڑے ناشکرے ھیں،
وھی جاب جس کی ھم بیٹھے دھجیاں بکھیر رھے تھے ،ابھی چودھویں کا چاند دکھائ دینے لگی.
یہ تو خیر ھم چاروں کا قصہ تھا. اس سے ھٹ کر بھی اگر دیکھا جاۓ تو ھم لوگ ناشکرے اور ناقدرے ھیں،
اپنے سے برتر کو دیکھ دیکھ کڑھتے ھیں، رب سے شکوے کرتے ھیں، ھمیں تو نے کیا دیا ھے ؟
وہ بشیرے کی نہ شکل ھے نہ عقل ھے، پر اتنی لمبی لمبی گاڑیاں لیے پھرتا ھے، ھم میں کیا کمی ھے کہ ھمیں نہیں دیتا تو، ھمیں گاڑیاں دکھتی ھیں بنگلے دکھتے ھیں، پر فٹ پاتھ پہ پڑے بے گھر نہیں دکھتے، غربت کی لگیں جھونپڑیاں نہیں دکھتیں، ھم صحت والوں کو مریضوں سے بھرے ھسپتال نہیں دکھتے، ھم آنکھوں والوں کو اندھے نہیں دکھتے، ھم ٹانگوں والوں کو لنگڑے اپاہج نہیں دکھتے،
ھم بالوں والوں کو گنجے نہیں دکھتے،
بس شکوے دکھتے ھیں، گلے دکھتے ھیں،
کبھی شکر نہیں دکھتا، کبھی رحمتیں نہیں دکھتیں ، کبھی نعمتیں نہیں دکھتی

0 comments:

Post a Comment

Thanks you for comment