Wednesday, April 12, 2017

Bivi ka ghussa

شوہر کے گھر میں داخل ہوتے ہی
بیوی کا غصہ پھوٹ پڑا:

سارا دن کہاں رہے؟ آفس میں پتہ كيا، وہاں بھی نہیں پہنچے! معاملہ کیا ہے؟

"وہ-وہ ... میں ..."وہ..

شوھر کی هكلاهٹ پر جھللاتے ہوئے بیوی پھر برسی، بولتے نہیں؟ کہاں چلے گئے تھے یہ گندا باکس اور کپڑوں کی پوٹلی کس کی اٹھا لائے؟

وہ میں ماں کو لانے گاؤں چلا گیا تھا.
شوھر تھوڑی ہمت کر کے بولا

کیا کہا؟ آپ ماں کو یہاں لے آئے؟ شرم نہیں آئی تمہیں؟

تمہارے بھائیوں کے پاس انہیں کیا تکلیف ہے؟

چراغ پا تھی بیوی!
اس نے پاس کھڑی پھٹی سفید ساڑی میں ملبوس
خلا میں گھورتی آنکھیں  بیمار بوڑھی کی طرف دیکھا تک نہیں

انہیں میرے بھائیوں کے پاس نہیں چھوڑا جا سکتا تم سمجھ کیوں نہیں رہی.
شوھر نے دبی زبان سے کہا.

کیوں، یہاں کوئی کبیر کا خزانہ رکھا ہے؟ تمہاری سات ہزار روپے کی تنخواہ میں بچوں کی پڑھائی اور گھر خرچ کس طرح چلا رہی ہوں، میں ہی جانتی ہوں!
بیوی کا لہجا اتنا ہی شدید تھا

اب یہ ہمارے پاس ہی رہے گی شوہر نے سختی سے  کہا

میں کہتی ہوں، انہیں اسی وقت واپس چھوڑ کر آؤ. ورنہ میں اس گھر میں ایک لمحہ بھی نہیں رہوں گی اور ان مہا رانی جی کو بھی یہاں آتے ذرا سی شرم نہیں آئی؟

کہہ کر بیوی نے بوڑھی عورت کی طرف دیکھا، تو پاؤں تلے سے زمین ہی سرک گئی!

جھیپتے ہوئے بیوی بولی: "ماں، تم؟"

ہاں بیٹی! تمہارے بھائی اور بھابھی نے مجھے گھر سے نکال دیا. داماد جی کو فون كيا تو یہ مجھے یہاں لے آئے.

بڑھیا نے کہا، تو بیوی نے چہکتی نظروں سے شوہر کی طرف دیکھا اور  بولی.

آپ بھی بڑے وہ ہو، ڈارلنگ! پہلے کیوں نہیں بتایا کہ میری ماں کو لانے گئے تھے؟

اس میسج کو اتنا شیئر کرو کہ ہر عورت تک پہنچ سکے!

ماں تو ماں ہوتی ہے! کیا میری، کیا تیری؟
#منقول

0 comments:

Post a Comment

Thanks you for comment