ریسرچ کے دوران جب معلوم ہواکہ برصغیر پاک وہند کے تمام مسلمان رہنماؤں نے ابتدائی تعلیم اپنی ماؤں سے حاصل کی توحیرت اپنی جگہ شرمندگی اپنی جگہ.
اس دور کی مائیں اتنی تعلیم یافتہ تھیں کہ اپنے بچوں کو ابتدائی تعلیم خود دی اور وہ بچے قائداعظم, علامہ اقبال, شوکت علی, جوہر علی، سرسید وغیرہ بنے.......طویل فہرست ہے......
1857ع کے غدر کے بعد انگریزوں نے طویل المیعاد منصوبہ بندی کی......
مغل دور سے مساجد کا نظام تعلیم عام تھا آپ آج بھی بادشاہی مسجد جائیں تو ایک لمبی قطار میں رہائش گاہیں نظر آتی ہیں یہ طلبہ کی رہائش گاہیں تھیں جو دور دراز سے تعلیم حاصل کرنے آتے تھے.
اپنی ماؤں سے اس دور میں عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہاں داخل کئے جاتے تھے اور مولوی کا امتحان اسی مسجد سے پاس کیا جاتا.....
کم و بیش اپنی پچاس ورکشاپس میں جب میں نے اپنی شرکاء سے یہ سوال.کیا کہ آپ کے خیال میں یہاں کیا پڑھایا جاتا ہوگا تو جوابات کچھ یوں تھے ...
قرآن,تفسیر,تجوید,قواعد عربی,گرامر,حدیث,فقہ,صرف نحو,..........
جب میں ان کو بتاتی ہوں کہ ان مساجد کے تعلیمی نظام میں ریاضی، بیالوجی, فزکس, کیمسٹری, علم الفلکیات, علم الارضیات, سمیت تمام سائنسی مضامین بھی پڑھائے جاتے تو ان کی حیرت کا عالم ان کے چہروں سے عیاں ہوتا .......
یہی وہ نظام تعلیم تھا جس سے الخوارزمی, بو علی سینا, ابن الہثیم جیسے عظیم سائنسدان نکلے.....
مولوی کا امتحان جیسے آج کا میٹرک کے برابر تھا .....جس میں قرآن و حدیث و تمام سائنسی مضامین کی ابتدائی تعلیم دی جاتی اس کے بعد طالب علم.کے رجحان و دلچسپی پر منحصر ہوتا کہ وہ کس مضمون میں "تخصص" یعنی اس دور کا ایم اے,ایم فل اور پی ایچ ڈی کرے......
اس مساجد کے نظام تعلیم کا آغاز آنحضور صلی اللہ علیہ وسلّم نے اصحاب صفّہ اور دار ارقم کو مسجد نبوی میں قائم کر کے کیا تھا.
لارڈ میکالے کے نظام تعلیم نے ہمارے اسی تاریخی نظام تعلیم کو توڑ کر مسجد اور مدرسہ الگ کیا...... جدید نظام تعلیم ہمارے ہی چند سادہ لوح بزرگان کو شیشے میں اتار کر ان کو آلہ کار بنا کر ہم پر مسلط کیا گیا.
آج ہم مدارس میں پڑھنے والوں اور یونیورسٹیز میں پڑھنے والوں کو ایک دوسرے کے مد مقابل دیکھ رہے ہیں تو یہ وہ کاری ضرب تھی جو انگریز نے دوسری جنگ عظیم کے بعد ہماری نسلوں کو نظام تعلیم کی طبقاتی تقسیم کی جنگ میں جھونک کر ماری تھی........
دوسری ضرب جو اس بھی مہلک ترین تھی وہ ماں کی گود بچوں سے چھین کر ماری...
ماں کی گود سے بچوں کو مونٹیسوری, کنڈرگارڈن, پلے گروپ، نرسری، پریپ کے مرحلوں کو "ایٹی کیٹس ,اسکول ٹریننگ " کے نام پر چھینا گیا.
میں سوچتی ہوں کہ جن ماؤں کی گودوں سے قائداعظم, اقبال, الخوارزمی, ابن الہثیم, بو علی سینا, مولانا مودودی, سید سلمان ندوی, احمد شاہ ابدالی سمیت اپنے دور کے عظیم رہنماؤں نے عربی فارسی کی تعلیم حاصل کی وہ مائیں خود کتنی تعلیم.یافتہ ہوں گی کہ اپنی اولادوں کو تعلیم دینے کے قابل ہوئیں.
تو ریسرچ کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ اس دور میں بچیوں کی تعلیم کا انتظام گھروں میں کیا جاتا تھا....مدرس ان کو گھر میں پردے کی اوٹ سے پڑھانے آیا کرتے. عربی اور فارسی اس دور کے علمی عروج کے لئے لازم تھے تمام سائنسی علوم بھی اسی زبان میں پڑھے جاتے تھے.
انگریزوں نے صرف غدر کی جنگ اور دوسری جنگ عظیم ہی میں شاطرانہ چالیں نہیں چلیں انہوں نے ہماری نسلوں کو غلام بنانے اور ہمیں آپس میں ایک دوسرے کے مدمقابل لا کر ہماری اس قوت کو کمزور کرنے کی گہری چال چلی جس کا وہ مقابلہ کرنے میں وہ ہمیشہ سے ناکام تھے.
ماں کی گود,مسجد, اور مدرسہ الگ الگ کیا ... مسلم عورت کو حقوق نسواں کا ایسا عظیم جھانسا دیا کہ نسلوں کی جو تعمیر ماں کی گود سے اٹھنا تھی اور دینی عقائد اور جدید علوم کے حسین اشتراک سے نمو پانا تھی اسی کو الگ الگ کردیا.
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا نے زمیں پر آسماں سے ہمیں دے مارا.....
میرے بچوں کے چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر ارشد پرویز اپنے کلینک پر آئے چھوٹے بچوں کو بیمار دیکھ کر بڑا کڑھتے ہیں ...کہتےاتنی کم عمری میں اسکول بیگ کا بوجھ بچوں پر ظلم ہے انکے بقول باہر کے ممالک میں تیزی سے یہ رجحان پھیل رہا ہے کہ سات سال سے پہلے بچوں کو اسکول داخل نہ کروایا جائے.
میری کچھ دوست باہر کے ممالک میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچوں کا ہاف ٹائم بریک ایک گھنٹے کا ہوتا ہے اور ماؤں کا آنا اس میں لازم ہے.
مائیں آئیں...بچوں کو خود لنچ کروائیں اور ان کے ساتھ کھیلیں اس کے اضافی نمبر بچوں کے کارڈ میں لگائے جاتے ہیں. اور یہی وہ نشاۃ ثانیہ ہے جس کی ہمیں تلاش ہے
امید ابھی کچھ باقی ہے.
ایسے میں رائج نظام تعلیم میں جب کچھ ادارے دونوں تعلیمی نظام ساتھ ساتھ لے کر چلنے کی پر مشقت کوشش کرتے نظر آتے ہیں تو امید بندھتی ہے.....
اسلامی نظامت تعلیم سمیت جماعت اسلامی کے شعبہ تعلیم اور کچھ اور درد مندان امت نے اس پیرائے میں کام شروع کر رکھا ہے جس میں کافی حد تک کامیاب ہیں..... خصوصا شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کو اسلامی نظامت تعلیم سے مستفید ہونے کامشورہ ہے.....ان کا ماہانہ شاہراہ تعلیم اپنے تعلیمی اداروں میں لگوائیں اور نظام تعلیم سے وابستہ افراد باقاعدگی سے زیر مطالعہ رکھیں






0 comments:
Post a Comment
Thanks you for comment