کسی گاؤں میں ایک بابا اپنے گھر کے صحن میں چارپائی کھڑی کرکے نہا رھا تھا کہ اچانک پانی آنا بند ہوگیا۔ وہ اپنے منہ سر پر صابن مل چکا تھا جو اب اس کی آنکھوں میں لگ رھا تھا۔ اس نے گھبرا کر اپنے بچپن کے دوست کو آواز دی جو اس کے ہمسائے میں ہی رہتا تھا۔
اس کا دوست بابا بھاگا بھاگا اپنے دوست کی مدد کو آیا۔ صحن میں پہنچا تو کسی چیز سے ٹھوکر لگی جس سے اس کی دھوتی کھل گئی اور وہ چارپائی سے جا ٹکڑایا جس کے نتیجے میں چارپائی نیچے بچھ گئی اور وہ بابا اس چارپائی پر گرگیا۔ پہلے والا بابا جو نہا رھا تھا اور جس کی آنکھیں صابن کی وجہ سے بند تھیں، گھبراہٹ میں آگے بڑھا تو وہ بھی ٹھوکر کھا کر اسی چارپائی پر جاگرا۔
اتنے میں گاؤں کے حوالدار صاحب کا وہاں سے گزر ہوا۔ کھلے دروازے سے جو اندر نظر پڑی تو دو ننگے بابے چارپائی پر خرمستیاں کرتے نظر آئے۔ بس پھر کیا تھا، حوالدار صاحب دونوں کو گرفتار کرکے تھانے لے گئے۔
جب ان دونوں بابوں کے گھر والوں کو پتہ چلا تو وہ دونوں گھرانے تھانے پینچ گئے۔ دونوں گھرانوں نے علیحدہ علیحدہ حوالدار کو رشوت کی پیشکش کی لیکن اس پیشکش کا مقصد اپنا اپنا بابا چھڑوانا نہیں تھا بلکہ وہ دونوں گھرانے یہ چاہتے تھے کہ حوالدار اپنی رپورٹ میں ان کا بابا دوسرے بابے کے اوپر رکھے.........!!!
کچھ ایسا ھی حال اسلام آباد لاکڈاؤن ڈرامے کے بعد تحریک انصاف اور نون لیگ کے سپورٹروں کا ھے۔
دونوں جماعتوں کے سپورٹر اس وقت سوشل میڈیا پر اپنا اپنا "بابا" اوپر رکھنے کی سر توڑ کوشش کررھے ھیں..........!!
Wednesday, April 12, 2017
Home »
» خوبصورت بات






0 comments:
Post a Comment
Thanks you for comment